بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گریبان کھلا رکھنا سنت ہے یا بند رکھنا؟

سوال

گریبان بند رکھنا سنت ہے یا کھلا رکھنا سنت ہے؟ 

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول گریبان بند رکھنے کا تھا، اس لیے مستقل سنت یہی ہے، البتہ  بعض روایات سے کبھی کبھار گریبان کھلا رکھنا بھی  ثابت ہے، اس لیے کبھی کبھار اتباعِ سنت  کی نیت سے گریبان کھلا رکھنے  میں حرج نہیں۔ 

"حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ: ابْنُ قُشَيْرٍ أَبُو مَهَلٍ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَبَايَعْنَاهُ وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقُ الْأَزْرَارِ، قَالَ: فَبَايَعْتُهُ، ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدَيَّ فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ، قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَ لَا ابْنَهُ قَطُّ إِلَّا مُطْلِقَيْ أَزْرَارِهِمَا فِي شِتَاءٍ وَلَا حَرٍّ وَلَا يُزَرِّرَانِ أَزْرَارَهُمَا أَبَدًا."

(سنن أبي داود،  کتاب اللباس، باب في حل الأزرار، رقم الحديث)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201461
تاریخ12-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں