بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو بیٹا یا میری بچی کہہ کر پکارنا

سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیٹا یا میری بچی کہہ کر پکارے تو کیا حکم ہے؟

جواب

شوہر کا اپنی بیوی کو"بیٹا" یا "میری بچی" کہہ کر  پکارنا مناسب نہیں ہے۔ تاہم شوہر کا بیوی کو "بیٹا"یا"میری بچی" کہنے سے نکاح پر اثر نہیں پڑا۔آئندہ اس کے بجائے اور مناسب لفظ سے پکارا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه."

(الدر المختار مع الرد، باب الظهار (3/470) ط: سعید)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 

"یوی کو بیٹا کہنا لغو اور بیہودہ حرکت ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹا۔"

(آپ کے مسائل اور ان کا حل، باب الظہار (6/670)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201433
تاریخ12-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں