بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ڈکار شیطان کی طرف سے ہوتی ہے؟

سوال

کیا ڈکار ، جمائی کی طرح شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ؟ اور اس پر کیا پڑھنا چاہیے؟ 

جواب

ڈکار کے شیطان کی جانب سے ہونے کا کوئی ثبوت ہمیں نہیں ملا، بلکہ عام طور  سانس کی یہ آواز پیٹ  کے بھرے   ہوئے ہونے کی بنا پر   خارج ہوتی ہے، نیز اس موقع پر  کسی خاص ذکر کا ثبوت بھی نبی کریم صلی  اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملتا، حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے ڈکار لی تو آپ نے زیادہ کھانے پر اسے تنبیہ فرمائی، لیکن کسی ذکر کی تلقین نہیں فرمائی۔ 

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " كُفَّ جُشَاءَكَ عَنَّا ؛ فَإِنَّ أَطْوَلَكُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُكُمْ شِبَعًا فِي دَارِ الدُّنْيَا ".
(سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ، بَابٌ : الِاقْتِصَادُ فِي الْأَكْلِ وَكَرَاهَةُ الشِّبَعِ، رقم الحديث: ٣٣٥٠)
فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201424
تاریخ12-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں