بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی چیز کا فرضی بل بنوا کر کمپنی سے رقم وصول کرنا

سوال

میں سعودیہ میں کام کرتا ہوں، کمپنی مجھے سالانہ یونیفارم دیتی ہے، جس کی مالیت لگ بھگ 60000 روپے بنتی ہے، میں چاہتا ہوں کہ نئے خریدنے کے بجائے میرا پرانے پر گزارا ہو سکتا ہے اور یہ رقم میں فرضی بل بنا کر لے سکتا ہوں، کیا یہ رقم میرے لیے حلال ہو گی؟

جواب

آپ جس کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں اگر اس کمپنی کی پالیسی یہ ہو کہ  وہ اپنے ملازمین کو سالانہ  یونیفارم مہیا کرتی ہے اور یونیفارم کا بل دکھانے کی صورت میں رقم ادا کرتی ہے اور یونیفارم نہ خریدنے کی صورت میں رقم نہیں دیتی تو ایسی صورت میں کسی ملازم کے لیے یہ جائز نہیں ہو گا  کہ وہ یونیفارم خریدے بغیر محض فرضی  بل کی بنیاد پر  کمپنی سے یونیفارم کے پیسے وصول کر لے؛ کیوں کہ اس میں  کمپنی کے ساتھ دھوکا دہی ہے اور دھوکا دینا سخت گناہ کا کام ہے۔

تاہم اگر کمپنی کی طرف سے یہ رقم بہرصورت ملتی ہو، یا کمپنی کے مجاز عہدیداران  کو حقیقی صورتِ حال  سے آگاہ کیا جائے، پھر وہ یونیفارم خریدے بغیر ہی   یونیفارم کے عوض رقم دے دیں تو یہ رقم لینا جائز ہو گا۔

ترمذی شریف میں ہے:

"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: من غش فلیس منا".

(سنن الترمذي، باب ما جاء في کراهیة الغش في البیوع، ۱؍۲۴۵)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201330
تاریخ10-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں