بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک کے ساتھ سرمایہ کاری کرنا / میزان بینک کے ذریعہ گھر خریدنا

سوال

کیا میزان بینک سرمایہ کاری، اسلامی شرعی قوانین کے مطابق ہے؟ کیا میزبان بینک آسان گھر اسلامی شرعی قوانین کے مطابق ہے؟

جواب

1- میزان بینک یا  مروجہ غیر سودی بینکوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ہے، مروجہ غیر سودی بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔

2۔  میزان بینک سے گھر لینا جائز نہیں ہے، اور ان دنوں میں میزان بینک  "میرا پاکستان میرا گھر" نامی اسکیم کے تحت شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کے ذریعہ سرمایہ کاری  کر رہا ہے، یہ طریقہ شرعی تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ناجائز  اور سودی معاملہ کے مشابہ ہے؛ لہذا اس سکیم کے تحت گھر لینا جائز نہیں ہے۔

مروجہ غیر سودی بینکاری کےتفصیلی  فقہی اور شرعی جائزے کے لیے "مروجہ اسلامی بینکاری" کا مطالعہ کیجیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201287
تاریخ09-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں