بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

العروۃ الوثقٰی نام کے حوالے سے سابقہ فتوے کی وضاحت

سوال

فتوی نمبر 144004200856 میں   بچی کا نام "عروۃ الوثقی" رکھنا مقصود ہے۔ راہ نمائی فرمادیجیے یہ الفاظ قرآن مجید کی کون سی سورت میں شامل ہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ فتوی نمبر 144004200856 کے جواب میں واضح کر دیا گیا تھا کہ یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے۔  باقی "العروة الوثقى" کا لفظ سورۂ بقرہ، آیت 256 میں وارد ہوا ہے۔

واضح رہے کہ بچیوں کا نام رکھنے میں بہتر یہ ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنہن، امت کی نیک خواتین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے یا کم از کم ایسا نام رکھا جائے جس کا معنی بچی کے لیے درست ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201244
تاریخ08-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں