بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وصیت کا حکم

سوال

اگر والدہ نے وفات سے قبل کوئی وصیت کی ہو اور میں وہ پوری نہ کر سکوں پھر کیا حکم ہے؟

جواب

میت نے اگر اپنی زندگی میں کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو  اس میت کے ترکہ (میں سے تجہیز و تکفین کے اخراجات اور قرض ہونے کی صورت میں قرض کی ادائیگی کے بعد، ترکہ) کے ایک تہائی حصے میں اس وصیت کو نافذ کرنا ضروری ہے، لہذا اگر آپ کی والدہ نے کوئی وصیت کی ہو تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے، ورنہ گناہ ہو گا۔بہتر یہ ہے کہ  آپ والدہ کی وصیت ذکرکرکے دریافت کرلیں۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (11/ 216)

ترتيب الحقوق المتعلقة بالتركة:

21 - لا خلاف بين الفقهاء في أن الحقوق المتعلقة بالتركة ليست على مرتبة واحدة، وأن بعضها مقدم على بعض، فيقدم من حيث الجملة تجهيز الميت وتكفينه، ثم أداء الدين، ثم تنفيذ وصاياه، والباقي للورثة.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201218
تاریخ08-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں