بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تَن خواہ دار ملازم کا ضروت کے وقت زکات لینا

سوال

جو شخص ملازم  ہو  اور  چالیس ہزار تنخواہ  لیتا ہو، مگر اس کو کچھ مشکلات اور تنگی آئی ہو، کیا وہ زکوٰۃ  لے سکتا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر اس شخص کی تنخواہ ماہانہ اور  ضروری اخراجات میں صرف ہوجاتی ہے، اور اس کی ملکیت میں ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان نہیں ہے  جس کی مالیت  ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر  یا اس سے زیادہ ہو تو وہ زکات کا مستحق ہے، لہٰذا بوقتِ ضرورت، بقدرِ ضرورت وہ زکات لے سکتا ہے۔

البحرالرائق (258/2):

"والأولى أن يفسر الفقير بمن له ما دون النصاب كما في النقاية أخذًا من قولهم يجوز دفع الزكاة إلى من يملك ما دون النصاب أو قدر نصاب غير تام، وهو مستغرق في الحاجة، ولا خلاف في أنهما صنفان هو الصحيح."

وفیہ ایضا (259/2):

"وفي الخانية: والذي له دين على إنسان إذا احتيج إلى النفقة يجوز له أن يأخذ من الزكاة قدر كفايته إلى حلول الأجل، وفي الخانية والذي له دين على إنسان إذا احتيج إلى النفقة يجوز له أن يأخذ من الزكاة قدر كفايته إلى حلول الأجل."

فتاوی ہندیہ میں ہے(189/1):

"لایجوز دفع الزکاة إلی من یملك نصاباً أي مال کان دنانیر أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغیر التجارة فاضلاً عن حاجته في جمیع السنة، هکذا في الزاهدي. والشرط أن یکون فاضلاً عن حاجته الأصلیة، وهي مسکنه، وأثاث مسکنه وثیابه وخادمه، ومرکبه وسلاحه، ولایشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزکاة لا الحرمان،کذافي الکافي."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201182
تاریخ07-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں