بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں تلاوت کے دوران ایسی غلطی کرنا جس سے معنی بدل جائے

سوال

اگر نماز میں {الذین صبروا وعلى ربهم یتوكلون} کی جگہ  {الذین کفروا وعلی ربہم}  کہہ دیا تو کیا اس کی نماز فاسد  ہوجائے گی؟

جواب

مذکورہ صورت میں چوں کہ آیت کا  معنی   بدل  کر بالکل غلط  ہوگیا؛ لہٰذا  اگر اسی رکعت میں اس غلطی کی اصلاح نہیں کی گئی تو  نماز فاسد  ہوگئی، اس کا اعادہ (دہرانا) لازم ہوگا۔

المحیط البرھانی (323/1):

" وإن كان اختلافاً متباعداً، نحو أن يختم آية الرحمة بآية العذاب أو آية العذاب بآية الرحمة أو أراد أن يقرأ {الشَّيْطَنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ} (البقرة: 268) يجري على لسانه الرحمن يعدكم الفقر؛ فعلى قول أبي حنيفة ومحمد تفسد صلاته."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201160
تاریخ07-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں