بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک میں کفالہ میں پیسے جمع کروانا

سوال

میزان  بینک میں کفالہ میں روپے جمع کرنا اور  5 سال کےبعد منافع کے ساتھ واپس لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

ہمارے دارالافتاء  کی تحقیق کے مطابق انشورنس اور تکافل (کفالہ اسکیم)  دونوں میں حکم کے اعتبار سے فرق نہیں، میزان بینک اور دیگر مروجہ اسلامی بینکوں نے تکافل یا کفالہ کے نام سے انشورنس کا جو متبادل متعارف کروایا ہے، یہ نظام بہت سے شرعی اصولوں سے متصادم ہے ،اس لیے انشورنس کی  طرح تکافل  (کفالہ اسکیم) بھی جائز نہیں اور اس اسکیم میں پیسہ لگانا اور اس پر نفع حاصل کرنا درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201056
تاریخ05-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں