بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خود کو ہاتھ سے فارغ کرنا

سوال

جب میں رات کو سوتا ہو تو مجھے ایک یا دو رات بعد ضرور احتلام ہوتا ہے، لیکن اگر میں اسی وجہ سے دن میں خود کو ہاتھ سے فارغ کرو ں تو پھر 2 یا 3 دن کے بجائے 4 یا 5 دن کے بعد احتلام ہوتا ہے، اور صبح سردی میں جب میں غسل کرتا ہوں تو بیمار پڑ جاتا ہوں ۔کیا میرے لیے دن میں خود کو ہاتھ سے فارغ کرنا اور غسل کرنا جائز ہے؟

جواب

خود کو ہاتھ سے فارغ کرنا (مشت زنی) کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہے؛ مرض کی وجہ سے یا غلبہ شہوت کی وجہ سے یا جسم ہلکا کرنے کے لیے  بھی مشت زنی ناجائز ہے۔  اور حدیث میں اس عمل کے مرتکب پر لعنت کی گئی ہے۔اس لئے ایسے فعل کو فورا ترک کردیں اور کسی اچھے ڈاکٹر سے  کثرت احتلام کا علاج کروائیں ۔

دلائل اور تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

مشت زنی گناہ ہے 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200971
تاریخ04-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں