بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تہجد سے قبل سونا ضروری نہیں

سوال

کیا تہجد کے لیے سونا لازمی ہے؟

اگرکوئی ساری رات جاگے تو اس کی تہجد کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

نماز تہجد کا اطلاق ہر اس  نفل نماز پر ہوتا ہے جو عشاء کی نماز کے بعد صبح صادق سے پہلے تک پڑھی جائے، جس کی ادائیگی کے لیے سونا شرط نہیں، البتہ افضل ہے کہ تہجد کی نماز سے قبل کچھ نیند لے لی جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جو شخص رات بھر بیدار رہتا ہو وہ بھی تہجد کی فضیلت حاصل کر سکتا ہے، مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

کیا تہجد کے لیے سونا ضروری ہے ؟

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200940
تاریخ03-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں