بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری لیبارٹری کا ٹیسٹ پرائیوٹ ریٹ پر بیچنا

سوال

کیا سرکاری لیبارٹری کا ٹیسٹ باہر پرائیویٹ ریٹ پر بیچنا جائز ہے  یا  نہیں؟

جواب

سرکاری ہسپتالوں یا سرکاری لیبارٹریز   میں جو ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اُن کا مقصد غریب عوام کو  ریلیف دینا یا مفت سہولت  میسر کرنا ہوتا ہے،اس لیے سرکار کی طرف سے عوام سے اس ٹیسٹ کی کوئی فیس وصول نہیں  کی جاتی، یا بہت ہی معمولی فیس وصول کی جاتی ہے، بلکہ اُس کے جملہ اخراجات حکومتی فنڈز سے پورے کیے جاتے ہیں، اب اگر کوئی سرکاری عہدیدار  سرکاری لیبارٹری میں کیے جانے والے ٹیسٹ کی فیس مریضوں سے لینا شروع کر دے جس کا کوئی پرمِٹ بھی موجود نہ ہو تو اس طرح اس کا فیس وصول کرنا جائز نہیں ہو گا اور وہ رقم اُس کے لیے حلال بھی نہ ہو گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200913
تاریخ03-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں