بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتدہ حاملہ کے بچہ کی پیدائش کا خرچہ کس پر ہے؟

سوال

‎معتده جو حامله هو، بچے کی ولادت (ڈیلیوری) کا خرچہ کس کے ذمه ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سابق شوہر کی اجازت سے اگر  پیدائش کا  انتظام کیا ہو تو اس صورت میں بچہ کی پیدائش پر آنے والے اخراجات بچہ کے والد پر ہوں گے، البتہ اگر اس کی اجازت کے بغیر انتظام کیا گیا ہو تو اس صورت میں  اخراجات کی ذمہ داری اگرچہ والد پر نہ ہوگی، تاہم اگر  وہ ادا کر دے تو یہ تبرع ہوگا۔

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار، قيل: عليه، و قيل: عليها.

(قوله: قيل: عليه إلخ) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول: عليه؛ لأنه مؤنة الجماع، ولقائل أن يقول: عليها كأجرة الطبيب اهـ وكذا ذكر غيره، ومقتضاه أنه قياس ذو وجهين لم يجزم أحد من المشايخ بأحدهما خلاف ما يفهمه كلام الشارح، ويظهر لي ترجيح الأول؛ لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه تأمل."

(باب النفقة، ٣ / ٥٧٩ - ٥٨٠، ط: دار الفكر-بيروت)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200895
تاریخ02-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں