بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر نور نام رکھنا

سوال

فجر نور نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

"فجر" کا معنی ہے: رات کی تاریکی چھٹنا، جب کہ "نور"  کے معنی روشنی کے ہیں،  مذکورہ نام رکھنا جائز ہے، البتہ بچے کا نام انبیاء علیہم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسماء میں سے کسی نام پر، اور بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کے نام پر رکھنا ہوگا۔

الفَجْرُ : (معجم الوسيط) : 

"الفَجْرُ : انكشافُ ظلمةِ الليل عن نور الصُّبْح. وهما فَجْرَانِ: أَحدهما: المستطيلُ، وهو الكاذبُ: والآخر: المستطيرُ المنتشرُ الأُفُقِ، وهو الصادقُ. يقال: طريقٌ فَجْرٌ: واضحٌ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200849
تاریخ02-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں