بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

سوال

اگر کوئی بندہ سچے دل سے توبہ کرکے نمازی بننا چاہتا ہو تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

ایسے آدمی کو چاہیے کہ سچے دل سے توبہ کرتے ہوئے آئندہ نماز نہ چھوڑنے کے پختہ عزم کے ساتھ نمازوں کا اہتمام شروع کردے، اور نماز پڑھنے میں  جو چیزیں رکاوٹ بنتی رہی ہیں ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کرے اور نمازی و نیک لوگوں کی صحبت میں اٹھنا بیٹھنا شروع کردے، نیز اس مقصد کے لیے نماز کے فضائل و مسائل کا مطالعہ بھی مفید رہے گا۔

فضائل کے لیے ’’فضائلِ اعمال‘‘ (از حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندہلوی رحمہ اللہ) میں سے فضائلِ نماز کا مطالعہ کریں، نیز  ’’نماز مسنون‘‘، (مؤلف: صوفی محمد سرور صاحب رحمہ اللہ)  یا ’’نماز سنت کے مطابق پڑھیے‘‘ (مؤلف: مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم) کا مطالعہ کیجیے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200831
تاریخ02-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں