بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس اسٹور پر شراب بکتی ہو وہاں سے دوسرا سامان خریدنا کیسا ہے؟

سوال

 جس اسٹور پر شراب بکتی ہو وہاں سے دوسرا سامان خریدنا کیسا ہے؟

جواب

اگر کوئی ایسی متبادل دوکان موجود ہو جہاں شراب فروخت نہ کی جاتی ہو تو اس دوکان سے خریداری کرنی چاہیے، اس لیے کہ شریعتِ مطہرہ نے تہمت کی جگہوں سے بچنے کی تعلیم دی ہے، نیز اعلانیہ فسق و فجور میں مبتلا شخص سے تعلق سے بھی منع فرمایا ہے، تاہم اگر کوئی متبادل دوکان موجود نہ ہو تو اس صورت میں مذکورہ اسٹور سے حلال و جائز اشیاء کی خریداری کی اجازت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200829
تاریخ01-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں