بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شوہر کی رضامندی کے بغیر طلاق یا خلع ہوجاتا ہے؟

سوال

کیا مرد کی رضا مندی کے بغیر طلاق، خلع ہو سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  شریعت کی اصطلاح میں طلاق اور خلع دو الگ اصطلاح ہیں، جن کے وقوع کی الگ الگ شرائط ہیں، طلاق کے وقوع کے لیے شوہر کا اپنی بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے طلاق یا اس کے ہم معنی الفاظ زبانی یا تحریری طور پر ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، جب کہ خلع کے وقوع کے لیےبیوی کی جانب سے شوہر کے نکاح سے آزادی کے حصول کے لیے مہر معافی کے بدلہ  میں  خلع کا مطالبہ کرنا اور شوہر کا اس مطالبہ کو قبول کرنا ضروری ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کی جانب سے طلاق دیے بغیر طلاق نہیں ہوگی، اور خلع قبول نہ کرنے کی صورت میں یک طرفہ طور پر خلع شرعًا معتبر نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع، كذا في فتح القدير."

( الباب الثامن في الخلع وما في حكمه وفيه ثلاثة فصول الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ١ / ٤٨٨، ط: دار الفكر)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200812
تاریخ01-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں