بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ کا مال کون کون استعمال کرسکتا ہے؟

سوال

صدقہ کا مال کون کون کھا سکتا ہے ؟ صدقہ سے مراد  : عام خیرات ہے،  صدقہ کرنے والا خود کھا سکتا ہے کہ نہیں؟

جواب

صدقہ واجبہ مثلاً: زکات، کفارات،نذر،صدقہ فطر وغیرہ تو صرف فقراء و مساکین (یعنی مستحقِ زکات افراد) کو دیے جاسکتے ہیں،البتہ صدقہ نافلہ کا حکم  عطیہ اور گفٹ کا ہے، یہ  صاحبِ نصاب شخص کو بھی دے سکتے ہیں،سب سے بہتر یہ ہے کہ جو رشتہ دار یا تعلق دار حاجت مند ہو اسے دیا جائے،ورنہ عام فقراء و مساکین کو دیا جائے،نفلی صدقہ مال دار اور غیر مسلم کو بھی دیا جاسکتا ہے، البتہ خود استعمال کرنے کی صورت میں وہ صدقہ شمار نہیں  ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200767
تاریخ31-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں