بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر وضو کے چمڑے والے موزے پہننے کا حکم

سوال

بغیروضوکے اگر چمڑے کا موزا پہنے تو کیا حکم ہے ؟

جواب

وضو کے بغیر چمڑے کا موزا پہننا جائز ہے، لیکن وضو کی ضرورت پڑنے پر اس موزے مسح کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ بغیر وضو کے پہننے  کی وجہ سے وضو کرتے وقت اس موزے کو اتار کر پیر دھونا لازم ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 270):

’’ (ملبوسين على طهر) فلو أحدث ومسح بخفيه أو لم يمسح فلبس موقه لا يمسح عليه (تام) خرج الناقص حقيقة كلمعة، أو معنى كتيمم ومعذور فإنه يمسح في الوقت فقط إلا إذا توضأ ولبس على الانقطاع الصحيح (عند الحدث).‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200682
تاریخ30-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں