بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسرائیل نام رکھنے کا حکم

سوال

 کیا "اسرائیل" نام رکھنا درست ہے؟ اور اس کا مطلب و وضاحت شرعی نقطہ نظر سے کیا ہے؟

جواب

"اسرائیل" یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے، یہ ”اسرا“   اور”ایل“  دو لفظوں سے مرکب ہے،  جس کا عربی ترجمہ "عبداللہ" (اللہ کا بندہ) ہے۔ 

حضرت یعقوب علیہ السلام  جو حضرت اسحاق  علیہ السلام کے بیٹے  اور حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کے پوتے  ہیں،  ان کا نام عبرانی زبان  میں "اسرائیل"  ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو نسل حضرت  یعقوب بن اسحاق علیہما السلام سے چلی وہ  اسی وجہ سے وہ "بنو اسرائیل" کہلاتی ہے۔ (مستفاد از قصص القرآن للسیوہاری)

یہ نام رکھنے میں شرعًا کوئی ممانعت نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200670
تاریخ30-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں