بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکان کی تعمیر کے لیے حکومت سے قرض لینا

سوال

ایک شخص کا مکان نہیں ہے اور وہ کرایہ پر مکان میں رہتا ہے،  وہ بھی دو کمرے والے، اور  اس کا کرایہ بھی اچھی خاصی رقم ہوتی ہے ،  اس میں اس کے پاس اپنا مکان بنانے کے لیے  رقم نہیں ہوتی ایسے میں اگر حکومت چار فیصد زیادہ رقم لے کر اس کو مکان کے لیے رقم دے دیتی ہے اور اپنا مکان بنا لیتا ہے  اور جو رقم وہ کرایہ میں دیتا تھا،  اب وہ حکومت  کو دے رہا ہے اور کچھ عرصے  کے بعد قرض بھی ختم کر دیتا ہے مع اضافی رقم کے،  کیا ایسا قرض لینا  جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

حکومت کی طرف سے تعمیرِ مکان کے سلسلے میں عوام کو جو رقم بطورِ قرض دی جا رہی ہے،  اس رقم کی واپسی پر حکومت کی طرف سے سود وصول کیا جاتا ہے، اور سود کا لینا دینا سب حرام ہے، اس لیے اس قسم کا قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

مختلف بینکوں یا اداروں سے سودی قرضہ لے کر یا شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ کر کے ذاتی گھر لینے کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200594
تاریخ29-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں