بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تعریف کے جواب میں ’’استغفر اللہ‘‘ کہنے کا حکم

سوال

اگر کوئی ہماری تعریف کریں تو اس کا جواب "أستغفر اللّٰه"  کہہ کر دیا جانا مناسب ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی آپ کی تعریف کرے اور آپ کو شیطان کی طرف سے یہ خطرہ اور اندیشہ ہونے لگے کہ شیطان آپ کے دل میں خود پسندی، عجب اور تکبر کے جذبات پیدا کردے گا اور اس حملہ سے بچنے کے  لیے آپ اللہ تعالیٰ  سے اس فاسد خیالات پر مغفرت اور پناہ طلب کرنے کے  لیے "أستغفر اللّٰه"  پڑھ لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ تعریف کا جواب نہیں ہے، بلکہ اپنی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200582
تاریخ29-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں