بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی وظیفے کے دوران کھانے میں پرہیز کرنے کا حکم

سوال

عورت  کے لیے  چالیس دن وظیفہ میں ترکِ حیوانات اور پرہیز  کا کیا حکم ہے ، اکیس دن وظیفہ پڑھنے کا؟

جواب

اگر کسی باشرع پرہیزگار، متقی صاحبِ تجربہ نے کسی جائز کام مثلاً بیماری وغیرہ سے نجات کے  لیے  وظیفہ کرنے کا کہا ہے اور اس دوران ترکِ حیوان (مثلًا حیوان کے کسی بھی جز  جیسے گوشت، دودھ، اس کے چمڑے سے بنی ہوئی چیزوں کے استعمال سے منع )  کا  کہا ہے، تو ایسے جائز وظیفے  کے  لیے ترکِ  حیوان (ترک مباح)  میں کوئی حرج نہیں ہے۔

إحياء علوم الدين  میں ہے:

"ما سمعت كلاماً في قلة الطعام أحكم من هذا وإنه لكلام حكيم و قال صلى الله عليه وسلم: البطنة أصل الداء، و الحمية أصل الدواء، و عودوا كل جسم ما اعتاد."

( کتاب کسر الشہوتین، ج:3، ص:87، ط:دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200542
تاریخ28-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں