بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاونٹ کا کیش بیک

سوال

 ایزی پیسہ سے رقوم کی منتقلی یا ایزی لوڈ یا بلوں کی ادائیگی پر  ملنے والے کیش بیک ( انعام) کا استعمال شرعًا جائز ہے یا ناجائز؟ جب کہ کمپنی نے کیش بیک (انعام) کو اس شرط پر مشروط کیا ہے کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں کم از کم 2000 روپے ہونا ضروری ہے، تب رقم منتقل کرنے پر 3 روپے یومیہ کیش بیک ملے گا، یعنی ایک دن میں کتنی ہی رقم منتقل کی جائے 3 روپے کیش بیک 2000 روپے اکاؤنٹ میں موجود ہونے پر فکس ہیں، اسی طرح اکاؤنٹ میں رقم زیادہ ہونے پر کیش بیک بھی زیادہ ملے گا، مثلًا: 2000 پر 3 روپے 3000 پر 4 روپے 5000 پر 6 روپے 10000 پر 7 روپے، آیا اس شرط کے ساتھ کیش بیک کا استعمال کیساہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں  ملنے والا کیش بیک حاصل کرنا ناجائز ہے۔  فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے مذکورہ فتوی ملاحظہ کریں :

ایزی پیسہ کا کیش بیک

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200540
تاریخ28-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں