بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا 15 دن قیام کرنے والا مسافر ہے؟

سوال

اگر کسی شخص کا قیام 15 دن ہو تو کیا وہ مسافر شمار ہوگا یا مقیم؟

جواب

اگر کسی شخص کا شرعی مسافتِ سفر کے بعد کسی ایک جگہ 15 دن یا اس سے زیادہ  ٹھہرنے  کا ارادہ ہو وہ شخص مقیم  شمار ہوگا،۔

کلو میٹر کے حساب سے سفر کی شرعی مسافت  77.24کلو میٹر ہے۔میل کے حساب سے اڑتالیس میل ہے۔  اور اصل  کے  حساب سے تین دن صبح سے  لے کر دوپہر تک معتدل سفر ہے ۔

اور اگر کوئی شخص مسافت سفر سے کم سفر کرے تو خواہ وہ ایک دن کے لیے ہی کسی جگہ اقامت کرے وہ مسافر نہیں شمار ہوگا، بلکہ مقیم ہی ہوگا۔ اسی طرح اگر سفر کے دوران ایک سے زائد  مختلف جگہوں  پر 15 دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو بھی مقیم نہیں ہوگا، کیوں کہ ہر مختلف جگہ میں 15 دن مستقل قیام نہیں پایا جائے گا۔

النتف في الفتاوى للسغدي :

"ويصير مقيماً بشيئين:
"أحدهما إذا عزم علي إقامة خمسة عشر يوماً أين ما كان ..." (1 / 76)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200501
تاریخ27-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں