بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہنزہ نام رکھنا

سوال

 میں نے اپنی بیٹی کا نام "ہنزہ"  رکھا ہے، نیٹ پر اس کا معنی ہے:  اللہ کا تحفہ، نام کے بارے میں  راہ نمائی فرمائیں!

جواب

اردو، عربی اور  فارسی  لغت کی کتابوں میں  تلاش کرنے کے باوجود ’’ ہنزہ ‘‘  کا معنی نہیں مل سکا،البتہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک جگہ کا نام "ہنزہ" ہے؛ لہذا یہ نام  رکھنا مناسب نہیں ہے،   نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ نیٹ پر موجود تمام معلومات مستند اور درست نہیں ہوتیں، لہٰذا جب تک کسی مستند اہلِ حق عالم سے اس کی تصدیق نہ کروالی جائے انٹرنیٹ کی معلومات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی کے نام پر یا کم از کم عربی کے اچھے معنی والے نام رکھے جائیں۔نیز ہماری ویب سائٹ پر اسلامی ناموں کی فہرست اور تلاش کی سہولت بھی موجود ہے ،وہاں سے بھی انتخاب کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200467
تاریخ27-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں