بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سترہ در صحراء ضروری نیست

سوال

آیا در صحرا هنگام نماز ستره جلوی خود گذاشتن ضروری است؟

جواب

قابل ذکر است که: در هنگام نماز خواندن در مسجد کوچک و یا مکان خورد، گذاشتن ستره در پیش روی نماز گذار سنت نبوی  است، البته اگر در میدان باز کسی از پیش روی نماز گذار بگذرد حکم همین است که از اینقدر فاصله بگذرد که اگر چشم نماز گذار در محل سجده باشد عبورکننده را نبیند، و مقدار همین را فقهاء کرام سه صف مقرر نموده اند، لذا در هنگام نماز خواندن در میدان باز، گذاشتن ستره در پیش روی خود لازم نیست۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200444
تاریخ26-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں