بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں جمعہ کے دن شیرنی / مٹھائی تقسیم کرنا

سوال

 مسجد میں جمعہ کے دن شیرنی تقسیم کرنا کیسا ہے؟

جواب

مسجد میں مٹھائی یا شیرنی  تقسیم کرنے سے اگر شور وشغب ہوتا ہو، یا مسجد کا فرش خراب ہوتا ہو، یا جمعہ کے دن شیرنی تقسیم کرنے کو لازم سمجھا جاتا ہو، یا اس کے لیے لوگوں کو چندہ دینا پر مجبور کیا جاتا ہو تو   یہ جائز نہیں ہے۔

اور اگر  مذکورہ کوئی خرابی نہ پائی جائے اور کوئی شخص اپنے طور پر مسجد میں شیرنی تقسیم کردے تو اس میں مضائقہ نہیں ہے، اس صورت میں  بھی  بہتر یہ ہے کہ خشک چیز تقسیم کی جائے؛تاکہ مسجد کا فرش وغیرہ خراب نہ ہو اور مسجد کے اندر تقسیم کرنے کے بجائے دروازے پر تقسیم کردیا جائے۔(مستفاد فتاوی رحیمیہ 6/243۔ کفایت المفتی3/210)

بہرصورت اگر ہر جمعے اس کا اہتمام کیا جائے تو یہ مناسب نہیں اگرچہ اسے لازم نہ سمجھاجائے، ہاں کبھی کبھی لازم سمجھے بغیر تقسیم کردی جائے تو مذکورہ شرائط کے ساتھ اجازت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200397
تاریخ25-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں