بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کا قراءت کرنے کا حکم

سوال

اگر مقتدی حالتِ اقتدامیں قراءت کرلے تو اس مقتدی کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اگرہوگی یا نہیں ہوگی دونوں پہ کوئی جزئیہ مطلوب ہے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں مقتدی کا حالتِ اقتدا میں تلاوت کرنا مکروہِ تحریمی ہے، البتہ اس کی نماز ادا ہوجاتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 544):

"(والمؤتم لايقرأ مطلقًا) ولا الفاتحة في السرية اتفاقًا، وما نسب لمحمد ضعيف، كما بسطه الكمال (فإن قرأ كره تحريمًا) وتصح في الأصح."

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200383
تاریخ25-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں