بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاڑھی نہ رکھنے والے شخص کی اذان، اقامت اور امامت کا حکم

سوال

 ایک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم داڑھی والے شخص کے ہوتے ہوئے، دوسرا شخص جو داڑھی بھی نہ رکھتا ہو اذان، اقامت اور امامت جیسے فرائض ادا کروا سکتا ہے؟

جواب

داڑھی رکھنا واجب اور اس کو منڈوانا یا کترواکر ایک مشت سے کم کرنا ناجائز اور کبیرہ گناہ ہے۔اور اس کا مرتکب فاسق اور گناہ گار ہے، اس کا اذان اور اقامت کہنا  مکروہِ تحریمی ہے، لہذا داڑھی والے لوگوں کی موجودگی میں یہ شخص اذان و اقامت نہ کہے، البتہ اگر ڈاڑھی منڈنے نے اذان یا اقامت دے دی ہو تو اس کو دوبارہ لوٹانا واجب نہیں ہے۔

اسی طرح ایسے شخص کی اقتدا میں نماز  ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے،  لہذا قریب میں جس مسجد میں باشرع ڈاڑھی والے امام ہیں ان کی اقتدا میں نماز ادا کریں، اور اگر کبھی وہ نہ ہوں تو مجبوری میں جماعت کا ثواب حاصل کرنے کے لیے انفرادی نماز پڑھنے کے بجائے  ڈاڑھی منڈے امام کی اقتدا میں ہی  نماز ادا کرلیں، نماز ادا ہوجائے گی، البتہ جتنا ثواب باشرع متقی پرہیزگار امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا ملتا ہے، اس ثواب میں کمی ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’ وینبغي أن یكون المؤذن رجلاً عاقلاً صالحاً تقیاً عالماً بالسنة، کذافي النهایة. ‘‘

( الفتاوى الهندية، ۵۳ / ۱ )

وفیہ ایضا:

’’ویکره أذان الفاسق ولایعاد، هکذافي الذخیرة. ‘‘

(الفتاوى الهندية، ۵۴ / ۱ )

’’حلبی کبیر ‘‘  میں ہے:

"و لو قدّموا فاسقاً يأثمون بناء علی أن كراهة تقديمه كراهة تحريم؛ لعدم اعتنائه بأمور دينه، و تساهله في الإتيان بلوازمه..."الخ

( كتاب الصلاة، الأولی بالإمامة، ص: ٥١٣، ٥١٤ ط: سهيل اكيدمي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200348
تاریخ24-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں