بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ جنابت میں جانور ذبح کرنا

سوال

حالتِ جنابت میں جانور ذبح کرنا کیسا ہے؟

جواب

فقہاءِ کرام نے جہاں ذبح کرنے کی شرائط کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ذبح کرنے والے کا جنابت سے پاک ہونا ذکر نہیں فرمایا، لہٰذا ذبح کرنے والے کا جنابت سے پاک ہونا ضروری نہیں ہے، اگر کسی شخص نے حالتِ جنابت میں بھی جانور ذبح کر لیا تو  اس ذبیحہ کا کھانا حلال ہو گا۔

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2763):

"شروط الذابح: مما سبق تعرف شروط الذابح: وهي أن يكون مميزاً عاقلاً، مسلماً أو كتابياً: ذمياً أو حربياً أو من نصارى بني تغلب، قاصداً التذكية، ولو كان مكرهاً على الذبح، ذكراً أو أنثى، طاهراً أو حائضاً أو جنباً، بصيراً أوأعمى، عدلاً أو فاسقاً."

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200282
تاریخ22-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں