بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لنگی پہننے کا طریقہ

سوال

لنگی سر کی جانب سے پہنی جائے گی یا پیر کی طرف سے؟

جواب

لنگی پہننے میں اصل یہ ہے کہ ٹخنے چھپے ہوئے نہ ہوں  اور اگر ٹخنے چھپے ہوئے ہوں تو اس پر حدیث میں وعید وارد ہوئی ہے، باقی لنگی اگر سلی ہوئی ہو تو اسے سر کی جانب سے پہنے یا پاؤں کی جانب سے دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور آپ ﷺ کی لنگی پہننے کے بارے میں آتا ہے: حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے  حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ تہنبد کے اگلے حصہ کو نسبتًا زائد رکھتے اور پیچھے کا حصہ اونچا کر لیتے میں نے پوچھا اس طرح کیوں باندھتے ہیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا حضور ﷺ کو اس طرح ازار باندھتے دیکھا ہے۔

مشكاة المصابيح (2/ 481):

"عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ما أسفل من الكعبين من الإزار في النار " . رواه البخاري."

مشكاة المصابيح (2/ 492):

"عن عكرمة قال : رأيت ابن عباس يأتزر فيضع حاشية إزاره من مقدمه على ظهر قدمه ويرفع من مؤخرة قلت لم تأتزر هذه الإزرة؟ قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتزرها. رواه أبو داود."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200259
تاریخ22-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں