بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی اور گھر والوں کی طرف سے صدقہ کرنا

سوال

میں اپنے شوہر سے  کوئی پیسے نہیں لیتی، گھر کے سب خرچ وہ خود کردیتے ہیں، تو ضرورت نہیں ہوتی، میں کوئی جیب خرچ الگ سے نہیں لیتی، جو صدقہ وہ کرتے ہیں، تو کیا وہ میری طرف سے بھی ہوجاتا ہے؟ کیوں کہ میرے پاس الگ سے کوئی رقم نہیں ہوتی، اور وہ کہتے ہیں کہ ہم سب کی طرف سے کرتے ہیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر جب سب کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں، تو صدقہ ان تمام افراد کی طرف سے شمار ہوگا، جن کی انہوں نے نیت کی ہوگی، پس سائلہ کی پاس اگر ذاتی نقدی موجود نہیں ہوتی، تو ایسی صورت میں بھی صدقہ کے ثواب میں وہ شریک رہے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200248
تاریخ21-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں