بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض خواہ کی طرف سے معاف کیے ہوئے قرضے کی رقم کا حکم

سوال

اگر قرض کی رقم واپس کی جارہی ہو اور وہ یہ کہے "رہنے دیں، میں نے نہیں لینا، اب اتنے عرصے کے بعد کیا لینا"،  کیا قرض ختم ہوگیا؟ میں رقم کا کیا کروں؟

جواب

واضح رہے اگرقرض کی ادائیگی کے وقت قرض خواہ مقروض سے قرضہ لینے کے بجائے واقعتاً اسے قرضہ معاف کردے، تو یہ رقم قرض خواہ کی جانب سے مقروض کو  ہدیہ (گفٹ) ہے، اور مقروض اس کا مالک ہوجاتا ہے۔

بصورتِ مسئولہ جب مقروض کے قرض کی ادائیگی کے وقت قرض خواہ نے کہا: "رہنے دیں میں نے نہیں لینا، اب اتنے عرصے کے بعد کیا لینا" تو یہ الفاظ قرض کے سلسلے میں قرض خواہ کی طرف سے طنزاً  اور شکوہ کے طور پرکہے گئے ہیں، لہذا مذکورہ الفاظ سے قرض معاف متصور نہیں ہوگا، بلکہ قرضہ بدستور مقروض کے ذمہ برقرار ہے جس کی ادائیگی مقروض کے ذمہ لازم ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسًا واستحسانًا ...

هبة الدين ممن عليه الدين وإبراءه يتم من غير قبول من المديون ويرتد برده ذكره عامة المشايخ رحمهم الله تعالى، وهو المختار، كذا في جواهر الأخلاطي".

(الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه الدين، ج:4، ص:384، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144205200217
تاریخ21-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں