بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچہ سفر میں قصر نماز پڑھے گا یا نہیں؟

سوال

نابالغ بچہ چوں کہ مکلف نہیں ہوتا تو آیا وہ اپنے والدین کے ساتھ سفر شرعی میں قصر نماز پڑھے گا  یا پوری نماز پڑھے گا؟

جواب

سفر کی نیت صحیح ہونے کے لیے بالغ ہونا شرط ہے، نابالغ کی نیت کا اعتبار نہیں ہے، اس لیے کہ وہ مکلف ہی نہیں ہے،  لہذا اگر بچہ سفر کررہا ہو تو  چوں کہ اس کی سفر کی نیت معتبر نہیں ہے، اس لیے وہ  اگر کسی کے تابع ہوئے بغیر سفر کرے گا تو سفر کے دوران  نماز میں  قصر نہیں کرے گا، لیکن اگر نابالغ اپنے والد کے ساتھ سفر کررہا  ہو تو والد کی نیت کی تابع ہونے کی وجہ سے وہ بھی قصر نماز ادا کرے گا۔

الفقه الإسلامي وأدلته(2/408):

"البلوغ: شرط عند الحنفية، فلا يقصر الصبي الصلاة في السفر."

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (1 / 424):

"ويشترط لصحة نية السفر ثلاثة أشياء: الاستقلال بالحكم و" الثاني "البلوغ و" الثالث "عدم نقصان مدة السفر عن ثلاثة أيام فلايقصر من لم يجاوز عمران مقامه أو جاوز" العمران ناويًا "و" لكن "كان صبيًّا أو تابعًا لم ينومتبوعه السفر" والتابع "كالمرأة مع زوجها" وقد أوفاها معجل مهرها."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200192
تاریخ21-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں