بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ سہو کے بعد امام کی اقتدا کرنا

سوال

سجود سہو کے بعد جماعت میں شامل ہونے والے شخص کی اقتدا درست ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص امام کی اقتدا ایسی حالت میں کرتا ہے جب امام سجدہ سہو کر لینے کے بعد قعدہ میں بیٹھا ہو  تو ایسے وقت میں  امام کی اقتدا کرنا  درست ہے، مقتدی کی نماز درست ہو جائے گی اور امام کے ساتھ سجدہ سہو فوت ہو جانے کی وجہ سے اس شخص پر الگ سے سجدہ سہو کرنا بھی لازم نہیں ہو گا۔

المبسوط للسرخسي (2/ 112):

"فإن سها الإمام في صلاته فسجد للسهو، ثم اقتدى به رجل في القعدة التي بعدها صح اقتداؤه؛ لأن الإمام في حرمة الصلاة بعد، وليس على الرجل سجود السهو فيما يقضي؛ لأنه ما سها، وإنما يلزمه متابعة الإمام فيما أدرك الإمام فيه."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 174):

"وأجمعوا على أنه لو عاد إلى سجود السهو ثم اقتدى به رجل يصح اقتداؤه به، إلا عند بشر."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200166
تاریخ20-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں