بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی رخصتی سے پہلے شوہر کے انتقال کی صورت میں عدت کا حکم

سوال

ایک شخص نے نکاح کیا اور ہم بستری سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا تو اس کی بیوی کی عدت کا کیا حکم ہوگا ؟ آیا وہ عدت گزارے گی یا نہیں؟

جواب

اگرشادی شدہ عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کے ذمے چار ماہ دس دن عدت گزارنا لازم ہے، چاہے اس کی رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (8/ 55) :

"وعدة المتوفى عنها زوجها إذا كانت حائلاً وهي حرة أربعة أشهرٍ وعشراً، يستوي في ذلك الدخول وعدم الدخول والصغر والكبر."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200151
تاریخ19-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں