بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بکری کو پرورش کے لیے دینے کی ایک صورت کا حکم

سوال

کسی کو بکری اس شرط پر دینا کہ مثلابکری دیتے وقت اس کی قیمت پندرہ سو روپے ہے ،بعد میں اب وہ اس کو کھلائے پلائے گا اور پھر حوالے کرتے وقت اس کی جو قیمت ہو گی پندرہ سو سے اوپر اس کو آدھا آدھا تقسیم کر لیں گے کیا یہ جائز ہے؟

جواب

مذکورہ صورت جائز نہیں ہے،  بلکہ ایسی صورت میں   پرورش کی وجہ سے جو قیمت میں اضافہ ہوگا  وہ مالک کا ہوگا، اور پالنے والے کو اجرت دی جائے گی، یعنی عام طورپر جانور کے چارہ وغیرہ کے علاوہ جانور پالنے اور رکھنے کی جواجرت بنتی ہے، پالنے والااس اجرت کا مستحق ہوگا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وعلی هذا إذا دفع البقرة إلی إنسان بالعلف لیکون الحادث بینهما نصفین، فما حدث فهو لصاحب البقرة، ولذلک الرجل مثل العلف الذي علفها وأجر مثله فیما قام علیها، والحیلة في ذلک أن یبیع نصف البقرة من ذلک الرجل بثمن معلوم حتی تصیر البقرة وأجناسها مشترکة بینهما فیکون الحادث منها علی الشرکة".

(الفتاوى الهندية،کتاب الشرکة، الباب الخامس في الشرکة الفاسدة، (۲/ ۳۳۵)

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

جانور پالنے کے لیے اس شرط پر دینا کہ بچے سالانہ باہم تقسیم کیے جائیں گے

 

جانور کو آدھ آدھ پر دینا

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200140
تاریخ19-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں