بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پچاس ركعت نفل پڑهنے كی نذر مانی

سوال

کیا اس طرح نذر ماننا درست ہے کہ اگر فلاں کام میرا ہو گیا تو میں 50 رکعت نفل پڑھوں گا ؟

جواب

جی ہاں! اس طرح نذر ماننا درست ہے، لہذا اس طرح ماننے کے بعد کام ہوجانے کی صورت میں پچاس رکعت نفل پڑھنا واجب  ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 735):

"(ومن نذر نذرًا مطلقًا أو معلقًا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف) وإعتاق رقبة وحج ولو ماشيا فإنها عبادات مقصودة، ومن جنسها واجب."

(كتاب الأيمان، مطلب في أحكام النذر، ط: سعيد)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200068
تاریخ17-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں