بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنت اور آیت نام رکھنا

سوال

لڑکی کا جنت اور آیت نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

"جنت"  کے لغوی معنی "گھنے باغ" کے ہیں، اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنے کی اگرچہ گنجائش ہے، تاہم صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھنا بہتر ہے۔

"الجَنَّةُ : (معجم الوسيط) الجَنَّةُ : الحديقةُ ذاتُ النَّخْلِ والشَّجرِ. الجَنَّةُ البُسْتانُ. الجَنَّةُ دارُ النعيم في الآخرة. والجمع : جِنانٌ".

''آیت '' عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں: علامت اور نشانی۔ اس کی جمع "آیات"ہے۔

عام شرعی اصطلاح میں"آیت" اور "آیات" کا اطلاق قرآن کریم کی آیات پر ہوتاہے۔ اور قرآنِ کریم و حدیث کی اصطلاح میں "آیت" سے مراد معجزہ اور دلیل بھی ہوتی ہے جو کسی نبی علیہ السلام کی صداقت کی نشانی ہو۔

مذکورہ نام اگرچہ رکھنا جائز ہے، لیکن یہ نام نہ رکھیں تو اچھا ہے؛ اس لیے کہ" آیت "سے ذہن فوراً اصطلاحی معنٰی یعنی قرآنِ کریم کی آیت وغیرہ کی طرف منتقل ہوتا ہے، نہ کہ کسی شخص کی طرف۔ بہتر یہ ہے کہ صحابیات میں سے کسی کے نام کو منتخب کرلیں، یہ زیادہ اچھا ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200067
تاریخ17-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں