بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبضے کی زمین خریدنا

سوال

 ایسی زمین خریدنا جس کے بارے میں علم ہو یہ کسی ادارے کی ہے یا گورنمنٹ کی ہے،  بیچنے والے نے قبضہ کیا ہوا ہے،  شرعًا جائز عمل ہے یا حرام عمل ہے؟

جواب

 ایسی زمین خریدنا جس کے بارے میں علم ہو یہ کسی ادارے کی ہے یا گورنمنٹ کی ہےاور  بیچنے والے نے اس  قبضہ کیا ہوا ہے،  شرعًا  ناجائز ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (9/ 15):

"و اعتبر الحنفية هذا الشرط من شروط الانعقاد، وقسموه إلى شقين:

الأول: أن يكون المبيع مملوكا في نفسه، فلاينعقد بيع الكلأ مثلًا، لأنه من المباحات غير المملوكة، ولو كانت الأرض مملوكة له.

والثاني: أن يكون المبيع ملك البائع فيما يبيعه لنفسه، فلاينعقد بيع ما ليس مملوكًا، وإن ملكه بعد، إلا السلم، والمغصوب بعد ضمانه، والمبيع بالوكالة، أو النيابة الشرعية، كالولي والوصي والقيم."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200065
تاریخ17-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں