بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچے کا اذان دینا

سوال

نابالغ بچہ اذان دےسکتا ہے؟

جواب

افضل یہ ہے کہ اذان  بالغ مرد  یا  بالغ لڑکا ہی دے، البتہ ایسالڑکا جو بلوغت کے قریب ہو وہ بھی اذان دے سکتا ہے، جب کہ  نابالغ ناسمجھ بچے کا اذان دینا مکروہ ہے۔

چنانچہ الدر المختار مع رد المحتار (1/ 391) میں ہے :

"(ويجوز) بلا كراهة (أذان صبي مراهق).

(قوله: بلا كراهة) أي تحريمية؛ لأن التنزيهية ثابتة؛ لما في البحر عن الخلاصة: أن غيرهم أولى منهم. اهـ. ح.

أقول: وقدمنا أول كتاب الطهارة الكلام في أن خلاف الأولى مكروه أولا فراجعه.

(قوله: صبي مراهق) المراد به العاقل وإن لم يراهق، كما هو ظاهر البحر وغيره، وقيل: يكره لكنه خلاف ظاهر الرواية، كما في الإمداد وغيره، وعلى هذا يصح تقريره في وظيفة الأذان، بحر."

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200046
تاریخ17-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں