بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں بیٹھ کر موبائل میں دیکھ کر قران کی تلاوت کرنے کا حکم

سوال

مسجد میں بیٹھ کر موبائل میں قران کی تلاوت کرنا کیسا ہے ؟ جب کہ مسجد کی الماری میں قرآن موجود ہو!

جواب

مسجد  میں بیٹھ کر بھی موبائل میں دیکھ کر تلاوت کرنا جائز ہے، البتہ مصحف  (قرآنِ پاک ) میں دیکھ کر تلاوت کرنا موبائل میں دیکھ کر تلاوت کرنے کے مقابلے میں زیادہ  برکت  کا سبب ہے، کیوں کہ مصحف شریف کو ہاتھوں میں ادب  واحترام سے پکڑنے  میں زیادہ اہتمام و ادب ہے، جو کہ ظاہر ہے موبائل میں حاصل نہیں ہوسکتا، البتہ نفسِ تلاوت کے ثواب میں کوئی فرق نہیں آئے گا، اس  لیے کوشش کرنی  چاہیے کہ اگر قرآنِ کریم کا نسخہ (مصحف) دست یاب ہو تو بلا عذر موبائل میں تلاوت  کرنے کے  بجائے قرآنِ کریم کے نسخے سے ہی دیکھ کر تلاوت کی جائے۔

نوٹ: وضو کے بغیر قرآنِ کریم کی تلاو ت  جائز ہے، لیکن قرآنِ کریم کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے، اس لیے موبائل کی اسکرین پر اگر قرآنِ کریم  کھلا ہوا ہو تو اسکرین کو  وضو کے بغیر چھونا جائز نہیں ہے، اس کے علاوہ  موبائل کے دیگر حصوں کو  مختلف  اطراف  سے چھونا جائز ہے، اس دوران اگر صفحہ پلٹنا ہو تو ہاتھ کی انگلی پر کوئی کپڑا لپیٹ کر بھی صفحہ پلٹا جاسکتاہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200019
تاریخ16-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں