بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی قرض

سوال

بینک والے ایک شخص کو پچاس لاکھ نقد دیتے ہیں اور پھر اسی شخص سے نوے لاکھ قسط وار وصول کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

مذکورہ صورت سود کی ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 166):

"في الأشباه: كل قرض جرّ نفعًا حرام."

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204201284
تاریخ15-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں