سودی قرض
سوال
بینک والے ایک شخص کو پچاس لاکھ نقد دیتے ہیں اور پھر اسی شخص سے نوے لاکھ قسط وار وصول کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
جواب
مذکورہ صورت سود کی ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 166):
"في الأشباه: كل قرض جرّ نفعًا حرام."
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144204201284
تاریخ15-12-2020

