بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صحت یابی پر بکرا خیرات کرنے کی نذر کرنا

سوال

ہما رے چاچا بیمار تھے تو چاچی نے کہا ہے : اگر ٹھیک ہوجائیں تو میں یہ بکرا خیرات کروں گی۔ اب چاچا کا انتقال ہوا ہے۔ ان کی ایک نا سمجھ بچی ہے جو اس بکرے کو خیرات کرنے نہیں دے رہی۔ تو اس کی جگہ کوئی اور بکرا خیرات کرنا صحیح ہوگا یا نہیں ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  اگر چچا صحت یاب نہیں ہوئے اور انتقال ہوگیا تو نذر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے بکرا خیرات کرنا لازم نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 735):

"(قوله: ووجد الشرط) معطوف على قوله وكان من جنسه عبادة وهذا إن كان معلقا بشرط وإلا لزم في الحال والمراد الشرط الذي يريد كونه كما يأتي تصحيحه."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204201281
تاریخ15-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں