بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لواطت سے توبہ کا کفارہ اور اس سے بچنے کا طریقہ

سوال

لڑکے سے زنا کا کتنا گناہ ہے اور اس کی سزا کیا ہے اور خدا نخواستہ اگر کسی نے زنا کیا ہو تو اسکا کفارہ کیا ہے؟ اور ایسے عمل سے خود کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں ایسے شخص کو چاہیے کہ سچے دل سے اپنے اس قبیح فعل سے توبہ کرے، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے، اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے، بروں کی صحبت ترک کردے، البتہ اگر اس کا یہ قبیح عمل قاضی وقت کے سامنے خود اس کے اقرار سے یا شرعی گواہوں کے ذریعہ ثابت ہوجائے تو ایسی صورت میں قاضی وقت کو شرعاً اختیار ہوگا کہ تعزیراً جو سزا تجویز کرنا چاہے کر سکتا ہے، تاہم اس عمل کی تلافی کے طور پر شریعتِ مطہرہ میں کوئی کفارہ مقرر نہیں۔

الموسوعة الفقهية الكويتية ( ٣٥/ ٣٤٠ ) میں ہے:

"الْحُكْمُ التَّكْلِيفِيُّ: ٣ - اتَّفَقَ الْفُقَهَاءُ عَلَى أَنَّ اللِّوَاطَ مُحَرَّمٌ؛ لأَِنَّهُ مِنْ أَغْلَظِ الْفَوَاحِشِ". ( إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام ٤ / ١٢٤، والإفصاح عن معاني الصحاح ٢ / ٢٣٨، والأم ٧ / ١٨٣، والمبسوط ٩ / ٧٧، والمغني لابن قدامة ٨ / ١٨٧، وكشاف القناع عن متن الإقناع ٦ / ٩٤، والكافي لابن عبد البر ٢ / ١٠٧٣).

"وَقَدْ ذَمَّهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ الْكَرِيمِ وَعَابَ عَلَى فِعْلِهِ فَقَال تَعَالَى: {وَلُوطًا إِذْ قَال لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَال شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ بَل أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ} (سورة الأعراف / ٨٠ - ٨١) وَقَال تَعَالَى: {أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَل أَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ} (سورة الشعراء / ١٦٥ - ١٦٦) وَقَدْ ذَمَّهُ الرَّسُول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِل عَمَل قَوْمِ لُوطٍ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِل عَمَل قَوْمِ لُوطٍ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِل عَمَل قَوْمِ لُوطٍ (أخرجه أحمد (١ / ٣٠٩) والحاكم (٤ / ٣٥٦) من حديث ابن عباس، وصححه الحاكم ووافقه الذهبي)

"عُقُوبَةُ اللاَّئِطِ فَذَهَبَ أَبُو حَنِيفَةَ إِلَى أَنَّهُ لاَيَجِبُ الْحَدُّ لِوَطْءِ امْرَأَةٍ أَجْنَبِيَّةٍ فِي غَيْرِ قُبُلِهَا وَلاَ بِاللِّوَاطَةِ بَل يُعَزَّرُ. وَقَال أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ: اللِّوَاطُ كَالزِّنَا فَيُحَدُّ جَلْدًا إِنْ لَمْ يَكُنْ أُحْصِنَ وَرَجْمًا إِنْ أُحْصِنَ. وَمَنْ تَكَرَّرَ اللِّوَاطُ مِنْهُ يُقْتَل عَلَى الْمُفْتَى بِهِ عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ". ( فتح القدير مع الهداية ٤ / ١٥٠، والزيلعي ٣ / ١٨٠، وحاشية ابن عابدين ٣ / ١٥٥. (٥) الزيلعي ٣ / ١٨١) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204201215
تاریخ13-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں