مدرسہ کی رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا
سوال
ایک شخص کے پاس مدرسے کے پیسے رکھے ہیں، اس شخص نے اپنی ضرورت کے لیے ان پیسوں میں سے اُدھار کے طور پر کچھ رقم لے کر ان پیسوں سے منافع بھی کمایا، تو کیا مدرسہ کی رقم اپنی ذاتی ضروریات میں خرچ کرنا اور اس سے منافع حاصل کرنا کیسا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے پاس جو رقم مدرسہ کے لیے رکھی گئی تھی اس کا حکم امانت کا ہے اور امانت کی رقم کو امانت رکھوانے والے کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا خیانت اور ناجائز تھا، اب اگر استعمال کرلیا اور اس سے نفع بھی حاصل ہوگیا تو یہ نفع واجب التصدق ہے، یعنی اس پر لازم ہے کہ حاصل شدہ نفع کو بغیر نیتِ ثواب کے کسی زکاۃ کے مستحق غریب پر خرچ کردے، اور جتنی رقم مدرسے کی تھی وہ بھی لوٹائے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

