بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کو سلام کرنا اور ان کے سلام کا جواب دینا

سوال

غیر مسلم کو سلام کرنا کیسا ہے؟  نیز اگر وہ سلام کرے تو ہمیں کیا جواب دینا چاہیے؟

جواب

معروف الفاظ (السلام علیکم۔۔۔) سے سلام  کرنا اسلامی شعار ہے،  یہ مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے، کسی غیر مسلم کو ان الفاظ کے ساتھ سلام کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اس لیے ابتداءً غیر مسلم کو سلام نہیں کرنا چاہیے، البتہ ملاقات کے وقت کہے جانے والے دیگر جائز کلمات کہے جاسکتے ہیں، اگر غیر مسلم سلام میں پہل کرے تو جواب میں صرف ’’وعلیکم‘‘  کہہ دینا چاہیے،  اگر   کہیں غیر مسلم کو ابتداءً سلام کرنے کی ضرورت پیش آجائے  تو   ’’السَّلَامُ عَلَی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدی‘‘ کے الفاظ سے سلام کیا جاسکتا ہے، اور اگر کسی مجمع میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں ہوں تو مسلمانوں کی نیت کرتے ہوئے پورے مجمع کو سلام کیا جاسکتاہے، جیساکہ حدیث سے ثابت ہے۔

"عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " إذا سلم عليكم أهل الكتاب فقولوا: وعليكم."

(الصحیح للبخارى، كتاب الاستئذان، باب: كيف يرد على أهل الذمة السلام (8/57) ط: دار طوق النجاة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204201176
تاریخ12-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں