بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جاز کیش سے رقم کی منتقلی پر ملنے والے اضافے کا حکم

سوال

جاز کیش سے رقم کی وصولی پر  ملنے والا اضافہ ناجائز ہوتا ہے۔ اس کا کیا کریں؟ ضائع کردیں؟

جواب

جاز کیش اور اس جیسی دوسری سروسز  جن میں پیسے قرض رکھوانے کی وجہ سے ڈسکاؤنٹ ملتا ہو،  ایسے اکاؤںٹ کھولنا چوں کہ ناجائز معاملے کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں؛ اس لیے ایسا اکاؤنٹ اپنے اختیار سے کھولنا ہی جائز نہیں ہے، نیز ان سے ڈسکاؤنٹ (مثلًا کیش بیک، فری منٹس، فری انٹرنیٹ اور فری ایس ایم ایس وغیرہ) وصول کرنا بھی جائز نہیں ہے، کیوں کہ بنیاد قرض ہے۔ اور قرض کی وجہ سے  ملنے والے نفع کو حدیث شریف میں سود کہا گیا ہے، لہٰذا اگر کسی نے لاعلمی میں ایسا اکاؤنٹ کھلوا لیا ہو اور اس پر کسی بھی شکل میں کوئی اضافہ (چاہے رقم کی صورت میں ہو یا فری منٹس وغیرہ کی صورت میں) ملا ہو تو اس سے استفادہ کرنے کے بجائے اس اکاؤنٹ کو ہی بند یا ترک کردیا جائے۔ اور اگر لاعلمی یا غفلت میں اضافی رقم وصول کرلی ہو تو اسے ثواب کی نیت کے بغیر کسی غریب کو دے دیں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204201139
تاریخ11-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں